Home » articles » Urdu

Category Archives: Urdu

No upcoming events

ریحان، نور بی بی، شے مرید اور فراز کی کہانی

                                                                                                                                    الیاس رئیس بلوچ

زندگی نے کچھ دن پہلے سانس لیا تھا، موسم بہار کا پھول ابھی پوری طرح کھلا نہیں تھا، چاند سے دوستی کا نیا نیا آغاز ہو چکا تھا۔گڑیا ابھی کل ہی لی تھی اس نے جس کی شادی کرنا ابھی باقی تھی۔ تتلیاں کیسے پکڑنی ہیں، ابھی وہ سیکھ رہے تھے، سکھیوں سے مستی، دوستوں​ کے ساتھ پکنک پر جانا، فٹ بال​ کے پیچھے بھاگنا اور بیٹ کو گھومانا، مستی ، مذاق، ہلاگلا، چھوٹے چھوٹے خواب دیکھنا، پڑھ لکھ کر اپنی قوم کے لیے کچھ کرنا، ہر وہ معصوم خواہش جو ہر جوان لڑکا یا لڑکی کرتی ہے، سب تھی ان میں ، زندگی رواں دوا تھی کہ ایک دن آسمان زمیں ہلنے لگے، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا ان کے، سانس لینا مشکل ہوتا جا رہا تھا ان کو، اور پھر وہ بےہوش ہوگئے۔

جب وہ ہوش میں آئے تو زندگی کے سب رنگ روٹھ چکے تھے۔ بہار، خزاں میں بدل چکی تھی۔ چاند ڈوب چکی تھا، خواب بکھر چکے تھے، امیدیں دم توڑ چکی تھیں، ماں باپ ان کے سرہانے کھڑے تھے۔ ماں رو رہی تھی، وہ چاہ کر بھی ان کو چپ نا کرا سکے۔

پتہ چلا رگوں میں جو خون دوڑ رہا ہے ان کے، وہ خون نہیں بلکہ کینسر ہے۔ ان کے والدین کے پاؤں تلے سے جیسے زمیں کھسک گئی ہو۔ کسی نے قرضہ لیا، کسی نے زمیں بیچ دی اور وہ کراچی آ گئے۔ یہاں پرائیویٹ ہسپتال میں علاج ہوتا رہا۔ تب تک، جب تک پیسے تھے۔ پیسے ختم ہوگئے تو علاج بھی بند ہوگیا۔ ان کے والدین جتنا کر سکتے تھے، انہوں نے کیا۔

تب دوستوں نے مہم چلانا شروع کر دی سوشل میڈیا پر، کہ کسی طرح پیسے اکٹھے ہو جائیں۔ لوگوں کی غیرتِ ایمانی کو جگانے کی کوشش کی گئی، انہیں احادیث سنائی گئیں کہ دوسروں کے کام آنے سے کتنا ثواب ملتا ہے۔ ٹھنڈے کمروں میں سوئے حکمرانوں کو ان کا فرض یاد دلایا گیا۔

لیکن جب تک سرکار امدادی چیک پر دستخط کرتی، سیٹھ اپنی تجوری کا منہ کھولتے، افسوس تب تک بہت دیر ہوچکی تھی، جو زندگی کا پھول کملا رہا تھا، وہ مرجھا چکا تھا۔ اور یہ سب ہمیشہ ہمیشہ کی نیند سو چکے تھے۔

وہ تو چلے گئے لیکن اپنے پیچھے کچھ سوالات چھوڑ گئے…..

پہلا سوال: کیا کینسر سے بچنا ناممکن ہے؟
ہاں ایک زمانہ تھا کہ ناممکن تھا لیکن آج ناممکن نہیں۔ آج ایسے کتنے لوگ ہیں جن کا علاج ہوا اور وہ بچ گئے۔ آج کینسر سے وہ لوگ مرتے ہیں جن کے پاس پیسے نہیں۔

دوسرا سوال: اگر بلوچستان میں کینسر ہسپتال ہوتا تو کیا وہ دنیا سے اتنی جلدی جاتے؟
زندگی اور موت تو اللہ پاک کے ہاتھ میں ہیں، انسان تو بس کوشش کر سکتا ہے۔ یقیناً اگر ان کا بروقت علاج ہوتا اور ان کو ان کی دہلیز پر علاج کی سہولت میسر ہوتی تو آج ایسا شاید نہ ہوتا۔ ایک ریاست کی ذماداری ہوتی ہے کہ اپنے شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرے۔ لیکن افسوس بلوچستان میں کوئی کینسر ہسپتال ہی نہیں۔

ایک اپیل ان تمام بلوچ دولت مندوں سے جنہیں اللہ پاک نے بہت کچھ دیا ہے، کیا ہو گا اگر کچھ دولت مند مل کر ایک کینسر ہسپتال بنائیں تاکہ پھر کوئی نور بی بی، کوئی ریحان، کوئی شہہ مرید، کوئی فراز وقت سے پہلے اپنے پیاروں سے بچھڑ نہ جائے۔

 

Advertisements